Welcome Guest [Log In] [Register]
Welcome to 9xstories. We hope you enjoy your visit.


You're currently viewing our forum as a guest. This means you are limited to certain areas of the board and there are some features you can't use. If you join our community, you'll be able to access member-only sections, and use many member-only features such as customizing your profile, sending personal messages, and voting in polls. Registration is simple, fast, and completely free.


Register here!


If you're already a member please log in to your account to access all of our features:

Username:   Password:
....محبت کے بعد; Urdu font
Topic Started: Feb 20 2018, 07:38 AM (60 Views)
sm jaan
Member Avatar

....محبت کے بعد

(پہلا حصہ)
ہیلو دوستو کیسے ہو آپ؟ امید ہے سب لوگ ٹھیک ہی ہوں گے . دوستو آج جو کہانی میں آپ لوگوں کےساتھ شئیر کرنے جا رہا ہوں۔اس کے بارے میں عرض ہے کہ یہ کہانی میں بہت عرصہ قبل ہی آپ کی خدمت میں پیش کرنا چاہتا تھا لیکن بوجہ ایسا نہ کر سکا کہ بیچ میں کوئی نہ کوئی ایسی بات ضرور آن پڑتی تھی کہ نا چاہتے ہوئے بھی میں اس کہانی کو ادھورا چھوڑ کر کسی دوسری کہانی کی طرف متوجہ ہو جایا کرتا تھا ۔۔۔لیکن اس کہانی کو ۔۔کہ جو دراصل مجھ پر گزرے ہوئے ایک رئیل واقعہ پر مشتمل ہے میں نے ہر صورت لکھنا تھا – چنانچہ آج کچھ فرصت ملی تو میں نے اس کو لکھنا شروع کر دیا ہے ۔ یوں تو یہ کہانی مجھ پہ بیتا ہوا ایک واقعہ ہےیعنی کہ کہانی کا مرکزی خیال بلکل اصلی ہے ۔۔۔لیکن سیکس فورم ہونے کی وجہ سے اور آپ لوگوں کے منورنجن کے لیئے میں نے اس میں کافی سارے سیکس سین بھی ڈال دیئے ہیں تا کہ آپ کو مزہ آئے اور ۔۔۔۔۔۔۔۔کہانی کو شوق سے پڑھیں ۔۔۔ ۔۔۔۔

دوستو! اس کہانی کا ایک ایک لفظ ،ایک ایک کردار مجھے آج بھی کل کی طرح یاد ہے کیونکہ یہ ایک ایسی داستان ہے جسے جب بھی میں یاد کرتا ہوں تو کبھی خوشی کبھی غم کا امتزاج بن جاتا ہوں ایسا کیوں ہوتا ہے ؟ یہ تو آپ کو کہانی پڑھ کر ہی پتہ چلے گا۔۔۔۔ ہاں ایک درخواست کہ کہانی کے بارے میں مجھے اپنی رائے سے ضرور نوازیئے گا۔ تو آیئے کہانی شروع کرتے ہیں۔۔۔
دوستو اردو کا ایک محاورہ ہے بندر کی سزا طویلے کے سر ۔۔۔یا اسی قسم کا ایک محاورہ پنجابی میں بھی بولا جاتا ہے۔۔ کھان پی نوں رحمتے ۔۔۔ تے کُٹ کھان نوں جمعہ ( ویسے بعض لوگوں سے میں نے کُٹ کھان کی جگہ بُنڈمروان نوں جمعہ بھی سنا ہے ) یا پھر ایک اور پنجابی کا محاورہ بھی یاد آ رہا ہے کہ یےن والے نس گئے تو نہان والے پھنس گئے ( مطلب یہ کہ چودنے والے بھاگ گئے اور جو ویسے ہی نہا رہے تھے وہ چودنے کے الزام میں پکڑے گئے) اس کہانی میں مجھے بھی کچھ اسی قسم کی صورتِ حال کا سامنا کرنا پڑا ہے یہ میری بے روزگاری کے عروج کے دن تھے ۔۔۔۔اور خاص طور پر جس وقت کا یہ واقعہ ہے اس وقت مجھ پر بے روزگاری کا سورج اپنے نصف النہار پر تھا ۔۔۔بہار کا موسم تھا لیکن ہم پہ خزاں چھائی ہوئی تھی وہ ایسے کہ ہم نے جیسے تیسے اپنے پڑھائی والے دریا کو تو عبور کر لیا تھا لیکن اس سے آگے جو دریا پڑتا تھا وہ مجھے ناقابلِ عبور لگ رہا تھا ۔۔۔اور وہ دریا نوکری والا تھا ۔۔۔۔۔یعنی کہ پڑھائی کے بعد اب ما بدولت نوکری کی تلاش میں تھے ۔۔۔ لیکن نوکری تھی کہ مل ہی نہیں رہی تھی ۔۔۔ اس لیئے دن بدن اپنے حالات خراب سے خراب تر ہوتے چلے جا رہے تھے ۔۔ میری اس بات کا مطلب وہ لوگ اچھی طرح سے سمجھ گئے ہوں گے کہ جنہوں نے بے روزگاری کا چلہ کاٹا ہے یا جو کاٹ رہے ہیں۔۔یہ وہ دن ہوتے ہیں کہ جب ہر طرف آپ کے لیئے صرف اور صرف " نو" کا بورڈ ہی لگا ہوتا ہے بندہ سارا دن مختلف دفتروں میں نوکری کی تلاش میں جوتیاں چٹخانے کے باوجود بھی جب شام کو گھر آ کر یہ اطلاع دیتا ہے کہ کام نہیں بنا ۔۔۔تو اس وقت جو گھر والوں سے جلی کٹی سننا پڑتی ہیں ۔۔۔۔ وہ بندے کا مزید دماغ خراب کرنے کے لیئے کافی ہوتی ہیں ۔لیکن مرتا کیا نہ کرتا کے مصداق ۔۔۔ یہ باتیں سننی اور برداشت کرنا ہی پڑتی ہیں ۔۔مجھے ابھی تک یاد ہے کہ میری یہ موجودہ سروس مجھے کم از کم سو (محاورتاً نہین بلکہ حقیقتاً نجی و سرکاری ) محکموں میں ( جی ہاں سچ مچ سو مختلف جگہوں پر ) درخواستیں دینے اور ذلیل و خوار ہونے کے بعد ملی ہے ۔ (اسی لیئے مجھے اس نوکری کی بڑی قدر ہے ) ہاں تو میں کہہ رہا تھا کہ دن کے غالباً گیارہ
بجے تھے اور میں لمبی تان کر سویا ہوا تھا کہ میرے کانوں میں امی کی غضب ناک ڈانٹ گونجی کہ اگر تم اب بھی نہ اُٹھے تو میں تم پر پورا جگ پانی کا ڈال دوں گی ۔۔۔چنانچہ امی کی غضب ڈانٹ سن کر میں شرافت سے اُٹھ بیٹھا ۔۔۔اور چونکہ آج کسی جگہ ٹیسٹ انٹرویو کے لیئے بھی نہیں جانا تھا اس لیئے ۔۔۔۔۔ ناشتہ کرنے کے بعد۔۔۔میں نے اپنے پرانے رجسٹر سے ڈھونڈ کر ایک سفید کاغذ پھاڑا اور اسے احتیاط سے تہہ کر کے اپنی جیب میں ڈال کر گھر سے باہر نکل گیا میری منزل لیاقت باغ راولپنڈی کے ساتھ واقع میونسپل لائیبریری تھی ۔۔جب میں وہاں پہنچا تو ۔۔۔ مجھ سے پہلے ہی وہاں پر انجمنِ بے روزگاراں کے نوجوان لائیبریری کی کرسیوں پر بیٹھ کر اپنے سامنے مختلف اخبارت پھیلائے بڑے ہی انہماک سے " آسامیاں خالی ہیں " کے اشتہار ات نوٹ کر رہے تھے ابھی میں وہاں جا کر بیٹھا ہی تھا کہ اصغر نے اپنے ہاتھ میں پکڑا ہوا ڈان کا ایک صفحہ میری طرف بڑھایا اور سرگوشی کرتے ہوئے بولا ۔۔۔ اس میں تمہارے مطلب کی ایک اسامی کا اشتہار موجود ہے ۔۔۔۔اس کی بات سن کر میں نے جلدی سے اخبار کو اس کے ہاتھ سے پکڑا اور جیب سے کاغذ نکال کر متعلقہ اسامی کے کوائف وغیرہ نوٹ کرنے لگا۔۔۔ پھر اس کے بعد جب ہم نے سارے اخبارات کو اچھی طرح کھنگال کر دیکھ لیا تو ہم لوگوں نے آنکھوں ہی آنکھوں میں ایک دوسرے کو اُٹھنے کا اشارہ کیا ۔۔۔

اور کچھ ہی دیر بعد ہم لوگ لیاقت باغ کے پارک میں بیٹھے ایک دوسرے کے ساتھ آج کے اخباروں میں دیئے ہوئے " آسامیاں خالی ہیں " کے اشتہارات کے بارے میں ڈسکس کر رہے تھے۔۔ کچھ دیر بعد گھاس پر بیٹھے بیٹھتے فہیم نے بڑی بے زاری کے ساتھ انگڑائی لی اور کہنے لگا۔۔ یار یہاں تو نوکری کے حالات بہت پتلے ہیں ۔۔۔ میں تو سوچ رہا ہوں کہ کیوں نہ کسی باہر کے ملک چلا جاؤں کہ روز روز گھر اور دفتروں میں ہونے والی بے عزتی برداشت نہیں ہوتی ۔۔ فہیم کی بات سنتے ہی اصغر نے اسے ایک موٹی سی گالی دیتے ہوئے کہا کہ سالے یہاں پاکستان میں رہ کر تو تم کو نوکری ملی نہیں اور تم باہر جانے کے خواب دیکھ رہے ہو۔۔ پھدی کے باہر جا کر کیا لن پکڑ لو گے؟ ۔۔۔۔۔پھر اس نے فہیم کی طرف دیکھ کر اسے ایک نہایت ہی فُحش اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یاد رکھ بیٹا ۔۔۔ جیہڑے ایتھے بھیڑے ۔۔۔او لاہور وی بھیڑے (مطلب یہ کہ جو اپنے ہوم ٹاؤن میں ناکام ہیں وہ ہر جگہ ناکام ہی ہوں گے )۔۔۔اصغر کی بات سن کر ہم سب دوستوں نے ایک فرمائیشی سا قہقہہ لگایا ۔۔۔ ادھر اصغر کے منہ سے گالی ۔۔۔ اور اس کا فحش اشارہ دیکھ کر فہیم ۔۔۔۔۔۔۔زرا بھی بے مزہ نہ ہوا بلکہ اسی قہقہہ کے دوران اس نے اپنی گھڑی کی طرف دیکھا اور پھر با آوازِ بلند ہمیں مخاطب کرتے ہوئے کہنے لگا۔۔۔ اوکے دوستو۔۔۔میں چلا کہ میری معشوق کی چھٹی کا ٹائم ہو گیا ہے شام کو ملیں گے یہ کہتا ہوا وہ اپنی جگہ سے ا ُٹھا اور وہاں سے غائب ہو گیا ۔۔۔۔۔۔۔ اس کے جانے کے تھوڑی دیر بعد اصغر مجھ سے مخاطب ہوتے ہوئے بولا یار شاہ کافی دنوں سے تمھارا پڑوسی امجد نظر نہیں آ رہا ۔ خیریت تو ہے نا ؟؟؟؟ ۔۔ اصغر کی بات سن کر میں نے چونک کر اس کی طر ف دیکھا اور بولا ۔۔۔ یار کہہ تو ۔۔۔تُو ٹھیک ہی رہا ہے واقعی کافی دنوں امجد کہیں دکھائی نہیں دے رہا ۔۔۔ کہیں بیمار شمار نہ ہو گیا ہو۔۔۔پھر اس کی طرف دیکھتے ہوئے میں تشویش بھرے لہجے میں بولا۔۔ چلو یار آج واپسی پر میں اس کے گھر سے ہوتا ہوا جاؤں گا ۔۔۔ میری بات سن کر پاس بیٹھے ہوئے اکرم نے برا سا منہ بنایا اور کہنے لگا ۔۔۔ کوئی ضرورت نہیں اس کے گھر جانے کی وہ مادر چود بلکل ٹھیک اور فِٹ ہے تو میں نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا گانڈو تجھے کیا الہام ہوا ہے کہ وہ بلکل ٹھیک ہے ؟؟۔۔۔ یا تینوں کی ُبنڈ تار آئی سی؟ ۔میری بات سن کر وہ مسکرایا اور کہنے لگا۔۔۔یار اس میں بنڈ تار والی کون سی بات ہے ۔۔مجھے ویسے ہی اس کے بارے میں پتہ ہےکہ ۔۔۔ اور اس سے پہلے کہ وہ کچھ مزید کہتا ۔۔ میں اس کی بات کو درمیان سے ہی اُچک کر بولا ۔۔اور اگر بالفرض وہکچھ مزید کہتا ۔۔ میں اس کی بات کو درمیان سے ہی اُچک کر بولا ۔۔اور اگر بالفرض وہ تمہارے مطابق ٹھیک بھی ہے تو اتنے دنوں سے ہمیں نظر کیوں نہیں آ رہا ؟؟؟؟ ۔۔تو اکرم نے میری طرف دیکھتے ہوئے بڑے ہی طنزیہ لہجے میں کہا۔۔اعلیٰ حضرت اس کے نظر نہ آنے کی دو وجوہات ہیں۔۔۔ نمبر ایک یہ کہ وہ ہماری طرح سے کوئی ویلا اور بے روزگار نہیں ہے ۔۔اور دوسری وجہ اس کے یہاں نہ آنے کی یہ ہے کہ موصوف کو آج کل عشق بخار چڑھا ہوا ہے۔۔ اکرم کی دوسری بات سن کر ہم سب دوست ایک دم سے چونک گئے ۔۔۔پھر میں نے بڑی حیرانی سے اکرم کی طرف دیکھتے ہوئے سے کہا ۔۔ ہتھ ہولا رکھو یار۔۔۔۔۔۔۔۔ امجد جیسے شریف بچے کے بارے میں اتنی ڈس انفارمیشن اچھی نہیں ہے ۔۔۔جبکہ ہم سب یہ بات اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ امجد ایسا لڑکا ہر گز نہیں ہے ۔ میری بات سن کر اکرم نے باری باری ہم سب کی طرف دیکھا اور کہنے لگا۔ بین یکو ( بہن چودو) مجھے پہلے ہی یقین تھا کہ اس محفل کے سارے گانڈو میری بات کا ہرگز یقین نہیں کریں گے۔۔لیکن یہ بات سچ ہے دوستو کہ شاہ جی کا بیسٹ فرینڈ اور ہماری مجلس کا سب سے شریف بچہ مسٹر امجدآج کل ایک لڑکی کے ساتھ بھونڈی کرتے ہوئے دیکھا گیا ہے وہ روز صبع اس کے ساتھ گھر سے نکلتا ہے اور لیاقت باغ تک اس کے ساتھ ساتھ آگے پیچھے چلتا ہے اور موقعہ دیکھ کر بات بھی کرلیتا ہے ۔۔۔ پھر لیاقت باغ سے وہ اپنے کالج (گورڈن) کی طرف چلا جاتا ہے اور وہ لڑکی اپنے کالج یعنی کہ وقار النساء کی طرف چلی جاتی ہے اس لیئے گھر سے وہ لیاقت باغ تک اس کے ساتھ آتا ہے۔۔۔۔ اس کی بات سن کر میں نے اکرم کو ایک موٹی سی گالی دی اور کہنے لگا ۔۔پھدی کے ۔۔۔ تمہیں اچھی طرح سے معلوم ہے کہ وہ گورڈن کالج میں پڑھتا ہے اس لیئے تم نے اسے گھر سے آتے ہوئے بائی چانس کسی لڑکی کے پیچھے دیکھ کر اتنا بڑا اسکینڈل بنا لیا ہے ۔۔۔۔ابھی ہم یہ باتیں کر ہی رہے تھے کہ سامنے سے امجد آتا ہوا دکھائی دیا اسے دیکھ کر ہم سب ایک دم چُپ ہو گئے اور ایک دوسرے کا منہ دیکھنے لگے اتنے میں امجد بھی ہمارے پاس آ کر بیٹھ گیا اور پھر جلد ہی اس نے ہماری خاموشی کو محسوس کر لیا اور ہم سب سے مخاطب ہو کر کہنے لگا ۔۔ کیا بات یارو ۔۔۔ یہ تم لوگ میرے آنے پر ایک دم چُپ کیوں ہو گئے
Offline Profile Quote Post Goto Top
 
rani g88
Member Avatar
Do r die
:congrat; :congrat;
Offline Profile Quote Post Goto Top
 
rani g88
Member Avatar
Do r die
:Repsadded; :Yourock;
Offline Profile Quote Post Goto Top
 
1 user reading this topic (1 Guest and 0 Anonymous)
« Previous Topic · Urdu · Next Topic »